سر اُٹھا کے چلنے والوں کے نام

شہرِ منافقت کی ان تنگ و تاریک گلیوں میں
شکستہ پا ہی سہی مگر ہم سر اٹھا کے چلیں گے

ہم اہلِ وفا ہیں کوئی اہلِ جفا نہیں جاناں
ہم مقتل میں بھی تیری تلاش میں چلیں گے

شبِ غم کے خاتمے کی دعا نہ کریں گے
ہم اپنے سارے زخم سجا کے چلیں گے

تم اہلِ ستم ہو تو کوئی حجت نہیں ہمیں
ہم اہلِ خاموشاں ہیں ہم ہر زخم اٹھا کے چلیں گے

← back