شمعِ آزادی

اندھیرے میں گھرا ہے میرا گھر مگر
امیدِ چراغاں مری نہیں ہے ابھی تک
غلامی کے بادل منڈلا رہے ہیں سر پر
شمعِ آزادی بجھی نہیں ہے ابھی تک

← back