دل بے چین بھی ہے، جب کہ مجھے عشق ہوا ہی نہیں
دل بے چین بھی ہے، جب کہ مجھے عشق ہوا ہی نہیں۔۔۔
سانس بھی چلتی ہے اور میں زندہ بھی نہیں۔۔۔
یہ کون آ کھڑا ہے میرے آئینہ میں دیوانے۔۔۔
یہ وہ بھی نہیں، تو بھی نہیں، میں بھی نہیں۔۔۔
اسباقِ خودی پڑھ کے سیکھا ہے فقط یہ۔۔۔
جو ہے وہ بھی نہیں، جو نہیں وہ بھی ہے نہیں۔۔۔
مجھ سے مت پوچھ عبث حالتِ غمِ یار۔۔۔
درد ہے ہی نہیں، دکھ ہے ہی نہیں، دل بچا ہی نہیں۔۔۔
آئینہ گر، تیرے آہن گر کی محدود وسعت میں۔۔۔
وہ تو بہت دور ہے، اُس جیسا بھی کوئی نہیں۔۔۔
یہ کس کا پتہ پوچھ رہے ہو، اہلِ علم کے قاصد۔۔۔
مجھ میں میں ہوں کہاں، کچھ بچا ہی نہیں
—ڈی اے