آ کہیں دور چلتے ہیں
آ کہیں دور چلتے ہیں
ستارہ نوردی کرتے ہیں
زمیں سے اٹھ کے اوپر
کہکشاں گردی کرتے ہیں
خود کو گھول کے خلوت میں
محفل کی دل آزاری کرتے ہیں
وقتِ وصال ملتے ہی نہیں وہ
مگر لب ہر سو، گریہ زاری کرتے ہیں
وہ خلوت و جلوت
میسر ہیں کہاں
مگر دیوانے جدائی میں
عزاداری کرتے ہیں
—ڈی اے