استفسارِ محبت
استفسارِ محبت
انتہائےِ دیوانگی میں
عروجِ جنوں میں
بہک گیا تھا میں
جہاں رُکا تھا میں
وہیں ٹھہر گیا تھا میں
بت کدہِ عشق میں
بت گر بنا تھا میں
وہ خدا تھا میرا
اور بندہِ خدا تھا میں
اس مقامِ عشق میں
خود پہ بہت نازاں تھا میں
مگر اک دن اُس نے قصہ
یکسر بدل ڈالا
مجھ کو بے وفا
ثابت کر ڈالا
وقتِ وصل چپکے سے
اُس نے مجھ سے استفسارِ عشق کر ڈالا
یہ جو پوچھا اُس نے
محبت ہے کہ نہیں ہے
یقین مانو یک جان
عرش سے فرش کر ڈالا
قصہِ مختصر
خدا کو بتِ خدا کر ڈالا
—ڈی اے