بہت ہی احمق تھے ہم
بہت ہی احمق تھے ہم، عشق کی بازی کھیل رہے تھے جب
کہ چڑھی تھی ہم پر دیوانگی اور تھوڑا وفا کا بھی خمار تھا
سمجھایا تو بہت تھا اپنوں نے، کہ مت جا اس دلدل میں
مگر اس وقت تو ہم پر عشق کا بھوت سوار تھا
ہم کو جو بھی ملا، جہاں بھی ملا، سر پھرا ہی ملا
عبث، چاہے وہ دوست تھا، یار تھا، یا پیار تھا
ڈی اے