اک شخص کو دیکھا تھا

اک شخص کو دیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اک شخص کو سمجھا تھا
پھولوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا
کیا اُس کی کریں باتیں
دن اُس کے لیے پیدا
اور اُس کی ہی تھیں راتیں

← back