سنو جاناں
سنو جاناں
محبتیں جب مکمل ہو جائیں
امتحاں جب اختتام کو جا پہنچیں
وقت کی مجبوریاں جب عروج پکڑ لیں
رویوں میں جب بےاعتنائیاں آ جائیں…
زمان و مکاں کی مطابقتیں مہمل ہو جائیں
تم دھیرے سے میرے کانوں میں
میری موت کا زہر گھول دینا
مگر تم فکر مت کرنا، نہ پریشاں ہونا
میں تجھ کو چھوڑ دوں گا جاناں
میں خود بن کے بےوفا زمانے میں
تجھے با وفا اس جہاں میں کر جاؤں گا
تجھے یاد نہ آئے میری
میں تیری دنیا چھوڑ جاؤں گا
اس قتلِ دل و وفا میں جاناں
قاتل بھی مقتول بھی میں کہلاؤں گا
تیرے وصل آخر کے احساس کی خاطر
تیرے رستہِ وفا کا اک سنگ میل بن جاؤں گا
مگر ان سب باتوں میں اک بات بتانا ضروری ہے
انسان. مر جاتے ہیں، احساس باقی رہتا ہے
پاسِ عہدِ وفائے عشق جب کامل ہو
عاشق مر جاتے ہیں، عشق باقی بچ جاتا ہے
ڈی اے