تم اور میں اس ادھ
تم اور میں اس ادھ
روشن کمرے میں
برہنہ اک دوسرے کے
جسموں میں گم
سموئے ہوئے ہیں، وہ
تمہارے بالوں میں انگلیاں
اور گال پہ ہلکے ہلکے بوسے
وہ طلوع آفتاب کا منظر
اور تمہارا کِھلا کِھلا حسیں چہرہ
وہ تمہاری بانہوں میں لپٹے ہوئے ہم
اور ہماری سانسوں میں شامل تم
یہ سب کسی دیومالائی
حکایت سے کم نہیں
کہ ہے رت جگا مگر آنکھوں
میں کوئی غم نہیں
تیری قربت کا یہ حسیں احساس
اور وقت کی یہ رفتار
یہ سب میری جاں عیاں ہے
کہ تُو میرا ہے
مگر جانِ جاں تُو نہ گھبرا
کہ ہے ابھی وقت اور
ہمیں ایک ہونے میں
محبت عام ہونے میں
وفا کی قسم بننے میں
تیرا یار ہونے میں
میری ذات میں تُو سرایت کر جا
مجھے اپنا بنا لے، تُو مرا ہو جا
کہ عرصے بعد کوئی ایسا ملا ہے
جس کے ساتھ دن گزر جائیں
رات بتائی جائے
وقت لمحے ماہ اور سال ساتھ ہوں
اور غم کوئی نہ ہو یہاں
میری جاں تُو کر نہ یہ گماں
کہ مر مٹا ہوں تجھ پہ
صرف یہ کہنا چاہتا ہوں
تمہارے سنگ وقت بتانا
اچھا لگتا ہے، بہت اچھا لگتا ہے