سنی سنائی باتوں کے نام
سنا ہے تمہیں اب کسی سے محبت ہو گئی ہے
سنا ہے اب تمہارا دل کہیں پہ لگ گیا ہے
سنا ہے تم اس کے عشق میں بالکل ویسے ہو
جیسے تیرے عشق میں میں دیوانہ تھا بیگانہ نہ تھا
سنا ہے کہ اسے بھی تم سے محبت نہیں ہے
سنا ہے وہ بھی محبت کو کھیل سمجھتا ہے
سنا ہے کہ تم بھی دے رہے ہو محبت کا واسطہ
سنا ہے کہ وہ بھی محبت کو ٹھکرا کے جا رہا ہے
سنا ہے کہ حال بدحال ہو تم بھی آج کل
سنا ہے وہ آزادی کی خوشیاں منا رہا ہے
سنا ہے کہ محرومی کی پاتال میں قید ہو تم
سنا ہے وہ آسماں پہ پر پھڑپھڑا رہا ہے
سنا تھا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے
سنا تھا کہ جو بوتا ہے وہی کاٹتا جاتا ہے
جو سنا تھا، آج ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں میں
تجھ کو تیری ہی آگ میں جلتا دیکھ رہا ہوں میں