تارے نہیں گنتا

تیرے انکارِ وفا کا کچھ تو فائدہ مجھے بھی ہوا ہے جانم
میں اب تارے نہیں گنتا، راتوں کو جاگا نہیں کرتا
پت جھڑ کے دنوں میں گرتے پتوں کی آواز سُن کر
میں اب ننگے پاؤں دروازے کی طرف بھاگا نہیں کرتا

← back