تم چاند ہو میرے

تم چاند ہو میرے، لیکن کیا چاند کسی کا ہو سکتا ہے؟
یہ خواب ہمیشہ روشن ہے، پر خواب کسی کا ہو سکتا ہے۔

جو دل کی دھڑکن سنتا ہے، جو رات کو آنکھیں بھرتا ہے،
وہ شخص قریب ہے کتنا، لیکن کیا میرا ہو سکتا ہے؟

یہ چاند، ستارے، بادل سب، اس دہر کے ہیں مسافر سے،
جو ان کو چھو لینے نکلا، تنہا ہی سفر میں کھو سکتا ہے۔

میں خواب سجاؤں آنکھوں میں، میں دل کو بہلاؤں لفظوں سے،
پر چاند جو ہے فلک پر، کیا ہاتھ میں میرے ہو سکتا ہے؟

اک دل کی صدا یہ کہتی ہے، اک عقل کی بات دہراتی—
یہ پیار حقیقت ہو جائے؟ یہ صرف فسانہ ہو سکتا ہے۔

← back