تم کہتے ہو

تم کہتے ہو کہ تمہیں بارش پسند ہے،
مگر جب بادل برستے ہیں
تم چھتری کھول لیتے ہو۔

تم کہتے ہو کہ تمہیں دھوپ اچھی لگتی ہے،
مگر جب سورج چمکتا ہے
تم سایہ ڈھونڈنے لگتے ہو۔

تم کہتے ہو کہ تمہیں ہوا پیاری ہے،
مگر جب ہوا شور مچاتی ہے
تم کھڑکیاں بند کر لیتے ہو۔

تم کہتے ہو کہ تمہیں سمندر بھاتا ہے،
مگر جب لہریں پُر زور آتی ہیں
تم کنارے پر پیچھے ہٹ جاتے ہو۔

تم کہتے ہو کہ تمہیں خاموشی عزیز ہے،
مگر جب سکوت بڑھ جائے
تم خود سے باتیں کر لیتے ہو۔

تم کہتے ہو کہ تمہیں سچ اچھا لگتا ہے،
مگر جب سچ تمہاری آنکھوں میں دیکھے
تم نظریں جھکا لیتے ہو۔

اور تم کہتے ہو کہ تم مجھے چاہتے ہو
تو میں ڈرتا ہوں،
کہ جس طرح تم نے بارش، دھوپ، ہوا،
سمندر، سکوت، اور سچ سے منہ موڑا،
کہیں ویسے ہی ایک دن
میری محبت سے بھی نظریں چرا نہ لو۔

اور اگر ایسا ہوا—
تو یاد رکھنا،
میں وہ بارش بن جاؤں گا
جس کی بوندوں سے تم چھپ نہیں سکو گے،
میں وہ دھوپ بن جاؤں گا
جس کے سامنے کوئی سایہ نہیں ملے گا،
میں وہ سچ بن جاؤں گا
جس سے نظریں چرا نہیں سکو گے۔

تب تمہیں یاد آئے گا
کہ تم نے کہا تھا تم مجھے چاہتے ہو

← back