تم اٹھو

آزاد وطن کے غلام باسی
تم اٹھو کہ ملک کو ہے ضرورت
تم اٹھو کہ ہے غلامی نہ منظور
تم اٹھو کہ پابند سلاسل کا ہے دور
تم اٹھو کہ بک گئے قاضی و رہبر
تم اٹھو کہ نگہباں، نگہباں نہ رہا
تم اٹھو کہ حالِ جہاں ہے بے حال
تم اٹھو کہ دشمن دے رہا للکار
تم اٹھو کہ تیرے مستقبل کا ہے سوال

یہ نہ ہو کہ ملک بکھر جائے
یہ نہ ہو کہ چمن میں خزاں آ جائے
یہ نہ ہو کہ وقت گزر جائے
اٹھ اے عام آدمی کہ ملک کا ہے سوال
اور پوچھ ان ٹھیکے داروں سے کچھ ایسے سوال
پوچھ ان سے کہ مستقبل کا کیا ہے حال
اور پوچھ ان سے کہ کیسے ملے چور کو توال
تو ہو کھڑا حق کے لیے اپنے
کہ تیرے بچوں کے مستقبل کا ہے سوال

← back