اداس نسلیں

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی
کہ ان کی نسلیں
اداس ہوں گی ادھیڑ عمری میں،
کہ جوانی کی صبح
کبھی طلوع ہی نہ ہوگی،
کہ زندگی کی شام
صبح ہی کے دہانے پر اتر آئے گی۔

مرنے والوں کو کیا پتہ تھا
کہ ان کے لہو کی سرخی
ان کی نسلوں کی آنکھوں میں
اداسی بن کر جم جائے گی،
کہ ان کے خوابوں کے چراغ
ہمارے دنوں میں بجھ جائیں گے،
کہ ان کی قربانیاں
ہماری تقدیر کا بوجھ بن جائیں گی۔

کسی کو کہنے سے غرض ہوگی
بڑھاپا محوِ کلام ہوگا
مگر اس کی زبان پر
خاموشی کا بوجھ ہوگا۔
ہر چہرہ ایک راز میں ڈوبا ہوگا
ہر آنکھ پردوں کے پیچھے چھپی ہوگی
اور ہوا—
ہوا بس خامشی کی بدحواسی ہوگی
وحشت کا اک ساز بجائے گی،
اور نسلیں اس ساز پر
بے اختیار کانپتی رہیں گی۔

زمین کے اندر جو مصور
اپنی خواب گاہوں میں سو گئے،
انہیں کہاں خبر تھی
کہ ان کے بعد بننے والے سب مناظر
ادھورے ہوں گے،
سبھی تصورات
کچے اور نامکمل رہ جائیں گے
کہ کینوس پر رنگ تو بکھریں گے
مگر حقیقت کبھی پوری نہ ہو گی۔

اور دعائیں دینے والوں کو کیا پتہ تھا
کہ دراز عمری
جو نعمت کہلاتی تھی،
اب عذاب ہو جائے گی
کہ وقت کی ہر ساعت
زنجیر کی ایک کڑی ہو گی
کہ بڑھاپے کی زبان
خاموش کلام سنائے گی
اور زندگی
زندگی سانسوں کا بوجھ بن جائے گی۔

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی
کہ دعا، سزا میں بدل جائے گی
کہ خواب، خوف میں ڈھل جائیں گے
کہ محبتیں، مصلحتوں کے آگے جھک جائیں گی۔

ہم وہی اداس نسلیں ہیں
جنہیں دیکھ کر پرکھے حیران ہوتے
ہم وہی ادھورے مسافر ہیں
جن کی جوانی کبھی جنم ہی نہ لے سکی
ہم وہی شکستہ وجود ہیں
جن کے لیے دراز عمری،
اب صرف بوجھ ہے
اور زندگی
ایک خاموش ماتم۔

ہمارے شہروں کے معماروں کو کیا پتہ تھا
کہ ان کی بلند عمارتیں
انسان کے دل کو چھوٹا کر دیں گی،
کہ گلیوں کی جاہل شور
اجنبیت کا شور بن جائے گی،
کہ مکان تو بہت ہوں گے
پر گھر کبھی نہ بس سکیں گے۔

ہمارے رشتے بنانے والوں کو کیا خبر تھی
کہ خاندان کی درخت کی جڑیں
مفاد کی قیچی سے کٹ جائیں گی،
کہ خون کا رشتہ
محض کاغذ کی تحریر رہ جائے گا،
کہ محبت کی ڈور
ٹوٹ کر مٹی میں بکھر جائے گی۔

ہمارے خواب لکھنے والوں کو کیا پتہ تھا
کہ خواب دیکھنا جرم ٹھہرے گا،
کہ آنکھیں چراغ نہیں رہیں گی،
بس اندھی کھڑکیاں بن جائیں گی،
کہ خواہشیں دم توڑ دیں گی
خاموش مرقد میں۔

ہمارے گیت لکھنے والوں کو کہاں خبر تھی
کہ ان کے بعد کے فتنے
محض بازار کی صدا رہ جائیں گے،
کہ ساز تو بجیں گے
مگر دھڑکن کے ساتھ نہیں،
کہ گانا محض صدا ہوگا
دل کا چراغ نہیں۔

اور ہمارے علم کے آئینوں کو کیا پتہ تھا
کہ علم قفس میں بند رہ جائے گا
کہ سچائی شور میں دب جائے گی
کہ لفظ زندہ رہیں گے
مگر روح تک نہیں پہنچیں گے۔

پرکھوں کو کیا خبر تھی
کہ وقت اپنی کتاب کے صفحے
یوں سیاہ لکھ دے گا
کہ نسلوں کی دعا
نسلوں کا خواب
نسلوں کی محبت
سب ادھورے رہ جائیں گے۔

…اور ہم
ہم وہی گمشدہ نسل ہیں
جن کی ہنسی ماتم میں بدلی ہے
جن کی دعائیں بوجھ بنیں
جن کے خواب زنجیر ہوئے—

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی
کہ آنے والے دن
ہمیں یہ سچ دکھائیں گے
کہ زندگی دعا نہیں
زندگی بس ایک سزا ہے۔

← back