اس کی آغوش میں سر رکھ کے سولوں گا
اس کی آغوش میں سر رکھ کے سولوں گا
اس کے گلے لگ کے دنیا کا ہر غم رولوں گا
اس کے کمرے میں، اس کی تصویر کی محفل میں
مذہب، فلسفہ، نفسیات، سب اسباق میں کھولوں گا
دن کاٹا تو کیسے کاٹا، رات گزاری تو کیسی گزری
تیرے جانے کے بعد، میں کس سے گھنٹوں بولوں گا
—ڈی اے