میری زندگی کے اس استاد کے نام
میری زندگی کے اس استاد کے نام، جسے سنے بنا مجھے نیند نہیں آتی
جو پوچھا کہ کس طرح ہوتی ہے بارش
جبیں سے پسینے کی بوندیں گرا دیں
جو پوچھا کہ کس طرح گرتی ہے بجلی
تو نگاہیں ملائیں، ملا کر جھکا دیں
جو پوچھا شب و روز ملتے ہیں کیسے
تو چہرے پہ اپنے وہ زلفیں گرا دیں
جو پوچھا کہ نغموں میں جادو ہے کیسا
تو مجھے تکلم میں باتیں سنا دیں
جو اپنی تمناؤں کا حال پوچھا
تو جلتی ہوئی چند شمعیں بجھا دیں
میں کہتا رہ گیا،
خطائے محبت کی اچھی سزا دی
میرے دل کی دنیا بنا کر مٹا دی