ویرانہ آباد نہیں کرتا

یاروں مجھے اُس سے کوئی گلہ نہیں، نہ ہی تم سے شکوہ ہے
مجھے تو کوئی یاد نہیں کرتا، کوئی میرا ویرانہ آباد نہیں کرتا
میں تو وہ گلشن ہوں جس کے سب پھول خزاں سے مر گئے
میں تو وہ ہوں کہ بچھڑ جاؤں تو کوئی لوٹنے کی فریاد نہیں کرتا

← back