ویرانوں میں

انہیں رتجگوں میں، انہیں بے وصل زمانوں میں
ہم ملیں گے اُسی شہر کے غیر آباد ویرانوں میں
محبتوں کے پروردہ اُس کاشنی آسماں کے نیچے
جس نے اک دھوم مچا رکھی ہے دیوانوں میں
اِن پہاڑوں کے اُس پار، اُس جھیل کے کنارے
جگنوں کے شہر میں، جگمگ کرتے پروانوں میں
ہم ملیں گے جاناں اک آخری بار پہلے کی طرح ہی
اس متحرک شہر سے دور جنگلوں میں، بیابانوں میں

← back