وعدۂ حیات

وہ پھر گویا ہوئی، تم سے بات نہ کرتی میں
اگر یہ اتنا ضروری نہ ہوتا تو
وہ جب ہم بچھڑے تھے، آخری بار
تو ہم نے پھر نہ ربط میں رہنے کا
عہد کیا تھا، ہم نے کہاں، ہاں میں نے
اس کے بول تھے کہ پرچھائی تھی
میں اس سال اس مقام پہ پہنچ گیا تھا
جہاں ہوا تھا قتلِ عشق، اور مقتول تھا میں
میرے دل سے اک آہ نکلی، اور میں بس بول سکا

جب اتنا عرصہ بیت گیا، اور میں دوبارہ زندہ ہوا
پھر کیوں آئی ہو زندگی میں میری
اس نے کہا فقط اتنا، میں مجبور ہوں جاناں
میں نے تو تم سے صرف اک وعدۂ حیات لینا تھا
روزِ قیامت جب میں تجھ کو مانگوں گی رب سے
کیا تم میرے ہو جاؤ گے، کیا تم مجھ کو رکھ پاؤ گے
اس نے جواب سنے بنا، اس دن فون تھا کاٹ دیا
اور مجھ کو اس دن سے قیامت کے انتظار میں لگا دیا

← back