وفائے بے وفائی کے نام

وفاؤں کے ماروں کے غم حالات نہ پوچھ
ساری زندگی اک اقرارِ وفا کو ترستے ہیں
خود ہی لگاتے ہیں خود پہ بے وفائی کا طوق
اور خود ہی یار کی بے وفائی کو ترستے ہیں

← back