واقعہِ کربلا

بسم اللہ سے بات شروع کروں
حمد رب کی پیار کے ساتھ بتاؤں کیا؟
نبی پاکؐ کے شایاں درود پڑھ کے
سارے نبیوں سے ہیں بے مثال بتاؤں کیا؟
علیؑ مولا کے لال حسینؑ مولا
کتنے ہوئے ہیں با کمال بتاؤں کیا؟
ہوئی عشق اور مولا حسینؑ کی جنگ
آج کھول کے سارا میں حال بتاؤں کیا؟

مسجدِ نبوی کا یہ واقعہ ہے
نبی پاکؐ منبر پہ آئے ہوئے تھے
محفل لگی ہوئی تھی سب صحابیوںؓ کی
سب نے اپنے سر جھکائے ہوئے تھے
جبرائیل امین بھی عرشوں سے
وحی رب کی یاروں لائے ہوئے تھے
کملی والےﷺ نے حسنؑ و حسینؑ مولا
اپنی آغوش میں بٹھائے ہوئے تھے

سات محرم کے دن یزیدیوں نے
پہرہ دریا کے اوپر بھی لگا دیا
کوئی سیدیوں میں پانی نہ لے جائے
ادھر فوجوں کو لوگوں بٹھا دیا
آلِ نبیؐ کو پانی کا نہ گھونٹ دیا
اونٹوں گھوڑوں کو پانی پلا دیا
بی بی زینبؑ حضور نے رو کے فرمایا
ناناؐ امت نے ہمیں رلا دیا

لوگوں سخت مہینہ تھا گرمی کا
اور کربل کا وہ صحرا سوچو
پانی بند تھا ظالموں نے کر دیا
چھوٹے بچوں کی حالت ذرا سوچو
آلِ نبیؐ کی پانی کو ترستی رہی
پاس بہتا رہا دریا سوچو
تڑپی ہو گی مولاؑ کی اولاد کیسے
سوچو ظلموں کی وہ انتہا سوچو

فجر ہوئی محرم کی دسویں کی
مولاؑ بولے اذاں سناؤ اکبرؑ
کر کے لال ہمیں تم ریت پر
اللہ اکبر کی صدا لگاؤ اکبرؑ
پہنچ جائے جو ناناؐ کے روضے تک
آج ایسی آواز لگاؤ اکبرؑ
بہن صغراؑ مدینے میں سن لے آج
جو بیٹی ہے لگائے لو اکبرؑ

بی بی پاک سکینہؑ نے فرمایا
ذرا میرے بھی پاس تو آئیں بابا
زخمی زخمی وجود ہوا سارا
تھوڑی دیر آرام فرمائیں بابا
تھکے ہوئے ہیں لاشیں اٹھا اٹھا کے
خدمت مجھ سے کچھ کروائیں بابا
مجھے نیند نہیں آپؑ کے بنا آتی
مجھے سینے کے اوپر سلائیں بابا

ماتھا چوم کے بیٹی کا آپؑ بولے
تھوڑی دیر کا ہے مہمان بابا
بعد عصر نماز کے ہے چلے جانا
تمہارا، دنیا سے، میری جان، بابا
تھوڑی دیر تم سو جاؤ سینے پر
رکھ لے گا تمہارا یہ مان بابا
آج شام کو نیزے پہ دیکھ لینا
وہاں پڑھے گا پاک قرآن بابا

ذوالجناح پہ سوار جب یاروں
ہو کے دین کے یہ غم خوارؑ چلے
اپنی موت کی آنکھ میں آنکھ ڈالنے
جب جنتوں کے سردارؑ چلے
ساتھ ساتھ سواری کے کیا بتلاؤں
روتی آلؑ بھی زار و قطار چلے
خیمہ گاہ کی حدوں سے باہر تک
ساتھ سیدوںؑ کے پردہ دار چلے

← back