وصل یار کی آرزو کے نام
کل شب اس سے وصال ہو گیا
اُس سے مری محبت کا سوال ہو گیا
اُس نے شرما کے نظریں جُھکا لیں
میرا تو خوشی سے برا حال ہو گیا
یکایک، صبح کی آذان کے باعث
میرا خواب خام خیال ہو گیا
وصلِ یار کی آرزوئے بے پناہ لیے
آج مجھے بھی اک سال ہو گیا