زندہ لاشوں کے نام
وہ زندہ دل ٹوٹ چکا تھا
پریشاں تھا، دکھی تھا
یونہی چپ بیٹھا رہا
گھنٹوں یونہی خاموش
جیسے زندہ ہی نہیں
پھر مجھ سے کہنے لگا
یہ خودکشی حرام نہ ہو
تو میں کب کا مر جاتا
پھر وہی سکوت
وہی خاموشی
وہی چپ کہ
دل دہل جائے
پھر بولا مگر
مرے تو وہ
جو زندہ ہے
گر خودکشی حلال ہو
تو میں کب کا
دفن ہو چکا ہوتا