زندگی کی الجھنوں کے نام

اب کے الجھے گی تو پھر، تم سے بھی سلجھ نہ پائے گی
زندگی کوئی زلف تھوڑی ہے، کبھی الجھے گی، کبھی سلجھے گی

← back